کاروار 7مارچ (ایس او نیوز) ضلع شمالی کینرا کے انچارج وزیر مسٹرآر وی دیشپانڈے نے مرکزی سرکار کی طرف سے مغربی گھاٹ کے علاقے کو حساس علاقہ قرار دینے والے مجوزہ نوٹی فکیشن کی مذمت کرتے ہوئے اسے عوام دشمن نوٹی فکیشن قرار دیااور مطالبہ کیا ہے کہ اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔
مسٹر دیشپانڈے نے کہا کہ مرکزی سرکار کے محکمہ ماحولیات وجنگلات کے اس اقدام سے عوام کے اندر بے چینی اور انتشار کی کیفیت پید ا ہوگئی ہے۔اور اس کی وجہ سے اس علاقے میں قدیم زمانے سے بسنے اور زندگی گزارنے والوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک ماحولیات اور جنگلی جانوروں کے تحفظ کا سوال ہے اس پر نہ ریاستی حکومت کو اور نہ ہی یہاں کے عوام کو کسی قسم کا اعتراض ہے۔ لیکن مغربی گھاٹ کی وادیوں میں وہاں کے معصوم عوام اور جنگل باسیوں کی طرف سے کھیت باڑی، باغبانی، مویشی پالن،گھریلو دستکاری اور دیگر ماحول دوست سرگرمیاں ایک زمانے سے جاری ہیں ، جن کی حفاظت کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔اور یہ بات مرکزی سرکار کو سمجھ لینا چاہیے۔
مسٹر دیشپانڈے نے مزید کہا کہ مغربی گھاٹ کے بہت سارے علاقے بہت ہی پچھڑے ہوئے ہیں۔ یہاں بسنے والوں کو پینے کے پانی، سڑک اور پل جیسی بنیادی انسانی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔مگر مرکزی سرکار کے اس نوٹی فکیشن کی وجہ سے اس علاقے میں کسی بھی قسم کے ترقیاتی منصوبے پر عمل نہیں کیا جاسکے گا۔جس کا لازمی اثر وہاں کے سماجی اور اقتصادی حالات پر پڑے گا۔
دیشپانڈے کا کہنا تھا کہ سیاحت کے نقطہ نظر سے یہ علاقہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لئے دلکشی کا باعث بنا ہوا ہے۔اور اب اس نوٹی فکیشن کی وجہ سے یہاں پر سیاحت کے فروغ میں بھی رکاوٹ پیدا ہوگی۔مقامی روزگار پر بھی اس کا برا اثر پڑنے والا ہے۔یو پی اے حکومت کے دوران آدی واسیوں اور پسماندہ قبائل کو سہولتیں فراہم کرنے اور انہیں جنگلاتی زمین پر حقوق دلانے کا جو حکمنامہ جاری کیاتھا اسی کے مطابق ریاستی سرکار ایسے علاقوں میں اس حکم نامے پر عمل کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔
مسٹر آر وی دیشپانڈے نے کہا کہ مرکزی سرکار کے مذکورہ نوٹی فکیشن پر اعتراضات داخل کرنے کے لئے دو مہینے کا وقت دیا گیا ہے۔ میرے اس بیان کو اعتراض ہی سمجھا جائے ۔ اس کے علاوہ عوام اور سماجی ادارے بھی اس متعینہ وقفے دوران نوٹی فکیشن کے خلاف اپنے اعتراضات درج کروائیں۔